نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان میں وفاقی بجٹ میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا سلسلہ باقاعدہ شروع ہو گیا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے پرانے ایس آر اوز واپس لے کر نئے ایس آر او جاری کیے ہیں، جن کے تحت درآمدی اشیاء پر عائد مختلف ڈیوٹیوں کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
سب سے اہم تبدیلی ریگولیٹری ڈیوٹی سے متعلق ہے۔ ایف بی آر کے مطابق درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح پچاس فیصد سے کم کر کے بیس فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ کمی درآمدی لاگت پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل میں سے ایک سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم اس کمی کا اطلاق ہر شے پر یکساں نہیں ہوگا۔ پانچ، دو اور ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی والی مخصوص ٹیرف لائنز کو اس کمی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جبکہ برآمدات اور مقامی صنعت کے تحفظ سے متعلق اشیاء پر موجود کم شرح برقرار رکھی گئی ہے، تاکہ حساس شعبوں کو ضروری تحفظ ملتا رہے۔
ایف بی آر نے ریگولیٹری ڈیوٹی کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ادارے کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد ٹیرف نظام کو سادہ بنانا، درآمدی رکاوٹوں میں کمی لانا اور کاروباری مسابقت کو فروغ دینا ہے، تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو آسان اور زیادہ شفاف بنایا جا سکے۔
نئے ایس آر او کے تحت درآمدی گاڑیوں کے بعض زمرے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ درآمدی ایس یو ویز اور آل ٹیرین وہیکلز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں بھی کمی کر دی گئی ہے، جو ان گاڑیوں کی درآمد سے وابستہ لاگت کے ڈھانچے میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ریگولیٹری ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں بھی بڑی کمی کی گئی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق خام مال، صنعتی انپٹس اور درآمدی اشیاء پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح چھ فیصد سے کم کر کے چار فیصد، چار فیصد سے دو فیصد اور دو فیصد سے صفر کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب صفر اور پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی والی مخصوص درآمدی اشیاء پر دو فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی کا اطلاق برقرار رکھا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت نئے مالی سال میں محصولات کے نظام کو آسان بنانے اور صنعت و تجارت کو سہولت دینے کی سمت میں پیش رفت کر رہی ہے، جس کے عملی اثرات آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گے۔
