پاکستان اور ایران کے درمیان تفتان بارڈر ریلوے اسٹیشن کے ذریعے تجارت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تجارت کو ایک منظم اور باضابطہ راستے پر ڈالنے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں ریلوے کے ذریعے سامان کی آمد و رفت کو ممکن بنایا جائے گا۔
اس فیصلے کے تحت تفتان ریلوے اسٹیشن پر تجارت سے متعلق تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ان میں سامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ، کسٹمز، کلیئرنس کے ساتھ ساتھ درآمد اور برآمد کے تمام انتظامات شامل ہیں، تاکہ تاجروں کو ایک ہی مقام پر مکمل سہولت میسر آ سکے۔
ایرانی ریلوے کے مطابق یہ فیصلہ ایران اور پاکستان کے ریلوے حکام کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد کیا گیا۔ اس رابطے میں دونوں جانب سے ریلوے کے ذریعے تجارت کو فعال بنانے کے امکانات اور انتظامات پر بات چیت کی گئی، جس کے نتیجے میں تفتان کے راستے تجارت پر اتفاق ہوا۔
حکام کو امید ہے کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کو فروغ ملے گا۔ ریلوے کے ذریعے سامان کی نقل و حمل نسبتاً آسان ہوتی ہے، اور اس سے تجارتی سرگرمیوں کو ایک نیا اور مستحکم ذریعہ میسر آ سکتا ہے۔
اس فیصلے کا ایک اہم پہلو اخراجات میں کمی ہے۔ ریلوے کے ذریعے نقل و حمل آسان ہونے کے ساتھ ساتھ سستی بھی متوقع ہے، جس سے تاجروں کے لیے سامان کی ترسیل کم لاگت پر ممکن ہو سکے گی اور تجارت کو وسعت ملنے میں مدد ملے گی۔
اس کے علاوہ، اس باضابطہ راستے سے قانونی تجارت میں اضافے کی بھی توقع ہے۔ ایک منظم اور سرکاری سہولت کے ذریعے سامان کی آمد و رفت سے غیر رسمی یا غیر قانونی راستوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے، اور تجارت زیادہ شفاف انداز میں آگے بڑھ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ قدم دونوں ممالک کے بڑے تجارتی ہدف کا حصہ ہے۔ پاکستان اور ایران دو طرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، اور تفتان ریلوے اسٹیشن کے ذریعے تجارت کا آغاز اسی سمت میں ایک عملی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
