LIVE PROTOCOL
EET--:--:-- edition--.--.--

پی آئی اے کی نجکاری مکمل، انتظامی کنٹرول خریدار کنسورشیم کے حوالے

پی آئی اے کی نجکاری مکمل، انتظامی کنٹرول خریدار کنسورشیم کے حوالے

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور وفاقی حکومت نے قومی ایئر لائن کا انتظامی اختیار خریدار کنسورشیم کو منتقل کر دیا ہے۔ تقریباً ایک سو اسی ارب روپے یعنی سات سو پچاس ملین ڈالر میں طے پانے والے اس معاہدے کو دو دہائیوں بعد ملک کی پہلی بڑی نجکاری قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کا عمل بالآخر مکمل ہو گیا ہے اور وفاقی حکومت نے قومی ایئر لائن کا انتظامی اختیار خریدار کنسورشیم کو باضابطہ طور پر منتقل کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ تقریباً ایک سو اسی ارب روپے یعنی سات سو پچاس ملین امریکی ڈالر میں طے پایا ہے، اور حکومتی حلقے اسے ملک بھر میں ایک اہم معاشی پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔

اس سودے کو دو دہائیوں کے بعد ہونے والی پہلی بڑی نجکاری اور ملکی تاریخ کے نمایاں ترین نجکاری معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ برسوں سے خسارے میں چلنے والی قومی ایئر لائن کے لیے یہ قدم ایک طویل اور مشکل باب کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں حکومت اپنے زیرِ انتظام ادارے کو نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے۔

پی آئی اے اپنے ابتدائی دور میں دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شمار کی جاتی تھی اور انیس سو ساٹھ سے انیس سو اسی تک قومی ایئر لائن نے فضاؤں میں اپنا سکہ جمائے رکھا۔ انیس سو اکسٹھ میں پی آئی اے نے نیویارک کے لیے پروازوں کا آغاز کیا، جبکہ انیس سو چونسٹھ میں بیجنگ کی فضاؤں میں بھی قومی پرچم کی حامل پروازیں شروع ہوئیں، جو اس وقت ملک کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی۔

ادارے کی ساکھ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قومی ایئر لائن نے انیس سو پچاسی میں ایمریٹس ایئر لائنز کو اپنے طیارے لیز پر فراہم کیے تھے۔ تاہم انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پی آئی اے کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور وہ دور قومی ایئر لائن کے لیے نئے چیلنجز لے کر آیا۔

مالی مشکلات کی اصل کہانی کا آغاز انیس سو نوے کی دہائی سے ہوتا ہے۔ ادارے کے معاملات میں سیاسی مداخلت، پائلٹس کی ہڑتالیں اور ملازمین کی ضرورت سے زیادہ تعداد نے پی آئی اے کو آہستہ آہستہ بلندیوں سے نیچے کی جانب دھکیلنا شروع کر دیا، جبکہ اوپن سکائی پالیسی نے بھی قومی ایئر لائن کے آپریشنز کو متاثر کیا۔

نوے کی دہائی کے بعد ادارہ منافع کے بجائے مسلسل نقصان میں جانے لگا اور آنے والے برسوں میں خسارہ بڑھتا چلا گیا۔ دو ہزار آٹھ میں پی آئی اے کا نقصان چھتیس ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق دو ہزار نو سے دو ہزار انیس کے دوران ادارے کو تین سو اکہتر ارب روپے سے زائد کا مجموعی خسارہ ہوا۔

ماہرین اور حکام کے مطابق ادارے میں سیاسی مداخلت، بدعنوانی اور لوٹ مار مالی خسارے کی بڑی وجوہات بنیں۔ اب جبکہ نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اور انتظامی کنٹرول خریدار کنسورشیم کو منتقل کر دیا گیا ہے، اس فیصلے کو قومی ایئر لائن کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Loading article...