پاکستان کے مختلف حصوں میں پری مون سون بارشوں کے دوران پیش آنے والے حادثات نے کئی خاندانوں کو سوگوار کر دیا ہے۔ آسمانی بجلی گرنے اور بارش کے باعث چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد پینتیس کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق ان میں سے کئی زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے علاقے لنڈی خوتل میں آسمانی بجلی گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دو بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔ بجلی گرنے کا یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ بارش کے دوران کھلے مقامات پر موجودگی کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک اور واقعے میں دیربالہ کے مقام پر آسمانی بجلی ایک مدرسے پر گری، جس کے نتیجے میں تقریباً بیس طالبات زخمی ہو گئیں۔ زخمی طالبات کو ابتدائی طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا، اور اس واقعے نے تعلیمی اداروں میں موسمی حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔
بارش کے باعث مکانات کی چھتیں گرنے کے واقعات بھی جان لیوا ثابت ہوئے۔ ایک واقعے میں چھت گرنے سے ایک خاتون اور ایک بچہ زندگی کی بازی ہار گئے، جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح گنجیال قائد آباد میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شہری دم توڑ گیا۔
ایک اور المناک واقعے میں دو بھائیوں سمیت تین افراد جاں بحق ہوئے اور پانچ زخمی ہوئے۔ مختلف علاقوں میں پیش آنے والے ان حادثات کو ملا کر زخمیوں کی مجموعی تعداد پینتیس کے لگ بھگ ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ بارشوں کی شدت اور ان سے جڑے خطرات کو ظاہر کرتی ہے۔
دوسری جانب انہی بارشوں نے ملک کے کئی حصوں میں گرمی کے زور کو توڑ دیا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش ہوئی، جبکہ بھیرا، حافظ آباد، قصور اور مرید کے سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں بھی بادل خوب برسے، جس سے شہریوں کو گرمی سے کچھ ریلیف ملا۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارش اور آسمانی بجلی کے دوران غیر ضروری طور پر کھلے میدانوں، درختوں کے نیچے یا کمزور چھتوں والے مقامات پر رہنے سے گریز کریں۔ پری مون سون بارشوں کے اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہی جانی نقصان سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
