پاکستان کے جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید گرمی کے بعد بالآخر موسلا دھار بارش نے موسم کا رخ بدل دیا۔ کئی دنوں سے جاری قہر کی گرمی کے بعد ہونے والی اس بارش نے فضا کو خنک کر دیا اور شہریوں کو حبس اور تپش سے خاصی راحت میسر آئی، جس سے مرجھائے چہرے بھی کھل اٹھے۔
رپورٹ کے مطابق شام سے پہلے ہی وفاقی دارالحکومت کے افق پر کالی گھٹائیں چھانے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جڑواں شہروں میں ہر طرف بادلوں نے ڈیرے جما لیے۔ اس کے بعد کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس نے گرم اور خشک ماحول کو یکسر تبدیل کر دیا۔
بارش کے ساتھ ساتھ تیز آندھی نے بھی اپنا اثر دکھایا۔ اسلام آباد میں مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ایف سیون کے علاقے میں ایک درخت ایک گاڑی پر آن گرا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس نے تیز ہواؤں کی شدت کا اندازہ ضرور دیا۔
بارش کے باعث شہر کے کئی مقامات پر پانی جمع ہو گیا۔ زیرو پوائنٹ اور امیر پارک روڈ سمیت مختلف مقامات پر پانی کھڑا ہونے سے آمد و رفت متاثر ہوئی، جبکہ راولپنڈی میں بھی نشیبی علاقوں کی گلیاں زیر آب آ گئیں، جس سے مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں آج رات اور کل دن کے دوران مزید بارش کا امکان ہے۔ اس پیش گوئی کے بعد شہریوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ موسم کی صورتحال پر نظر رکھیں، کیونکہ مزید بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کیا ہے۔ ادارے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلاب کا خدشہ ہے، جو ان بلند پہاڑی علاقوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہو سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی ندی نالوں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ متوقع ہے۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ گرمی سے ملنے والی وقتی راحت کے ساتھ ساتھ حکام کو بارشوں اور گلیشیائی سیلاب کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
