محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں آج سے پری مون سون بارشوں کے پہلے سپیل کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ملک کے کئی حصوں میں موسم میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ گرمی کی شدید لہر کے بعد ہونے والی یہ بارشیں ایک طرف عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنیں گی، تو دوسری طرف انتظامیہ کے لیے نئے چیلنج بھی لے کر آ رہی ہیں۔
پیش گوئی کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آج سے چھ جولائی تک وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ صوبے کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور بعض مقامات پر ژالہ باری کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے پیشِ نظر صوبائی ادارے الرٹ پر ہیں۔
صوبائی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے آندھی، بارش اور ژالہ باری سے متعلق الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ادارے نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں اور شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جائے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں شدید بارش کی صورت میں اربن فلڈنگ یعنی شہری سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ نکاسیِ آب کے ناقص نظام کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، جس کے لیے انتظامیہ کو خصوصی اقدامات کرنا ہوں گے۔
ادھر کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں بھی بوندا باندی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے باقاعدہ آغاز کی پیش گوئی جولائی کے پہلے ہفتے میں کی گئی ہے۔ ساحلی پٹی پر ہوا اور نمی کے باعث حبس میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
بارش کا یہ سلسلہ صرف پنجاب اور سندھ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ بلوچستان کے جنوبی اضلاع، آزاد کشمیر، گلیات اور گلگت بلتستان میں بھی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
