حکومت کے مطابق پاکستان میں بجلی کا شعبہ اپنی تاریخ کے سب سے گہرے اصلاحاتی دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں اس شعبے میں کئی اہم ساختی اصلاحات کا آغاز کیا گیا، جن کا مقصد موجودہ اور آئندہ ممکنہ بحرانوں کے لیے پاکستان کو تیار کرنا ہے۔
ان اصلاحات کے نتیجے میں بجلی کے شعبے میں مالی نظم و ضبط بہتر ہوا۔ حکام کے مطابق رواں مالی سال میں بجٹ میں مختص سبسیڈی کے مقابلے میں 143 ارب روپے سے زائد کی بچت حاصل کی گئی، اور یہ کمی صارفین پر بوجھ ڈال کر نہیں بلکہ اصلاحات کے ذریعے ممکن ہوئی۔
اس کے علاوہ آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) سے مذاکرات کے نتیجے میں تقریباً تین اعشاریہ سات ٹریلین روپے کی بچت حاصل کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ حکومت ان مذاکرات کو شعبے کی مالی بہتری کے لیے اہم قرار دیتی ہے۔
حکومت کے مطابق اس شعبے کی اصلاحات میں سب سے اہم قدم مسابقتی بجلی مارکیٹ کا عملی آغاز ہے۔ اب بجلی کا کاروبار ایک مسابقتی، مارکیٹ پر مبنی فریم ورک کے تحت ہوگا، جسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اب تک پاکستان میں بجلی ایک ہی سرکاری خریدار کے ذریعے خریدی جاتی تھی، جو سرکاری ضمانتوں پر تمام معاہدے کرتا تھا۔ حکومت کے بقول اب ملک اس پرانے، مہنگے اور سرکاری ضمانتوں پر منحصر نظام سے نکل کر ایک مسابقتی مارکیٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
حکام نے اس اقدام کو پاکستان کی بجلی کی معیشت کی بنیادی تشکیلِ نو قرار دیا ہے۔ ان کے بقول اس کا مقصد توانائی میں خود کفالت، صارفین کے لیے کم قیمتیں اور ایک ایسا نظام ہے جو سرکاری ضمانتوں پر کم سے کم انحصار کرے۔
اس کے ساتھ ہی صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی کسی بھی معیشت کی شہ رگ ہے، اور ان اصلاحات کا مقصد شعبے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
