پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران مجموعی طور پر مثبت رجحان غالب رہا، جہاں مارکیٹ کے بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کے رجحان نے مارکیٹ کو اوپر کی سمت دھکیلا، جس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ ایک بلند سطح پر پہنچ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق ہنڈرڈ انڈیکس میں تین ہزار سات سو اڑتالیس پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جو ایک قابلِ ذکر یک روزہ پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس اضافے کے بعد انڈیکس ایک لاکھ چوراسی ہزار پچاس پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، جسے مارکیٹ کے تناظر میں ایک اہم نفسیاتی حد قرار دیا جا رہا ہے۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے بھی مارکیٹ میں سرگرمی دیکھی گئی۔ اسٹاک مارکیٹ میں چھپن ارب روپے مالیت کے تیرانوے کروڑ شیئرز کا لین دین ہوا، جو سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور مارکیٹ میں گردش کرنے والے سرمائے کے حجم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح کا لین دین عام طور پر مارکیٹ میں اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے برعکس، سونے کی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری رہا۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا پانچ ہزار دو سو روپے سستا ہو کر چار لاکھ روپے کی سطح پر آ گیا، جبکہ تین روز کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر گیارہ ہزار چھ سو روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں کمی کا سلسلہ برقرار رہا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت باون ڈالر کم ہوئی، جس کے بعد یہ تین ہزار نو سو بہتر ڈالر کی سطح کے قریب آ گئی۔ عالمی قیمتوں میں یہ کمی عموماً مقامی مارکیٹ کے رجحان پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ کی جانب متوجہ رہے، جبکہ سونے جیسی روایتی محفوظ سرمایہ کاری کی قیمت میں نرمی دیکھی گئی۔ ایسے رجحانات کو اکثر مارکیٹ کے اعتماد اور سرمایہ کاروں کی ترجیحات میں تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اگرچہ ان کے دیرپا اثرات کا اندازہ آنے والے دنوں کے کاروبار سے ہی لگایا جا سکے گا۔
