LIVE PROTOCOL
EET--:--:-- edition--.--.--

بجٹ میں مالی شمولیت کی نئی اسکیمیں، کسانوں کے لیے 300 ارب کے قرضے

بجٹ میں مالی شمولیت کی نئی اسکیمیں، کسانوں کے لیے 300 ارب کے قرضے

وفاقی بجٹ میں مالی شمولیت کی کئی نئی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں زرخیزی اسکیم کے تحت ساڑھے سات لاکھ کسانوں کو 300 ارب روپے کے بلا ضمانت قرضے اور کم لاگت ہاؤسنگ فنانس شامل ہیں۔

وفاقی بجٹ میں مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے کئی نئی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان کا مقصد ان کسانوں، چھوٹے کاروباروں، نوجوانوں اور خواتین تک رسائی ہے، جنہیں روایتی بینکاری نظام میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ان طبقات کو نجی شعبے کے ذریعے قرضے فراہم کرنے کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

سب سے پہلی اسکیم زرخیزی کے نام سے شروع کی گئی ہے، جس کے تحت ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسانوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل عمل کے ذریعے بلا ضمانت قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ اس اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دوسری اسکیم وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ہے۔ اس کم لاگت ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے ذریعے متوسط آمدنی والے طبقے کو صرف پانچ فیصد مارک اپ پر مارگیج کی سہولت دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس پروگرام میں 90 ارب روپے کے قرضے منظور ہو چکے ہیں، جبکہ 11 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

ایک اور اقدام وزیراعظم فین ریپلیسمنٹ پروگرام ہے، جس کے تحت ملک بھر میں زیادہ بجلی خرچ کرنے والے پرانے پنکھوں کی جگہ کم بجلی استعمال کرنے والے پنکھے لگائے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد توانائی کی بچت ہے۔

حکومت کے پانچویں اقدام سوشل امپیکٹ فنانسنگ کے تحت دو پروگرام شامل کیے گئے ہیں۔ پہلا پاکستان سکلز امپیکٹ بانڈ ہے، جس کے ذریعے فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔ دوسرا ایگری اسٹوریج فنانسنگ سہولت ہے، جو 7 ارب روپے سے زائد کا منصوبہ ہے، جس کے تحت ملک بھر میں ذخیرہ گاہیں قائم کی جائیں گی جہاں کسان اپنا اناج محفوظ کر کے اس پر بینکوں سے قرض لے سکیں گے۔

بجٹ میں محصولات بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں پر ٹیکس اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں رائلٹی، مشروبات، آئرن اینڈ اسٹیل، گھی اور خوردنی تیل، ٹائرز، پیپر اینڈ بورڈ اور دیگر شعبے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ان اصلاحات اور اقدامات کا حتمی مقصد ایک ایسے ٹیکس نظام کا حصول ہے جو منصفانہ ہو، جس میں ایماندار ٹیکس دہندہ پر کم بوجھ پڑے اور ڈیٹا کی مدد سے ٹیکس چوری کی روک تھام کی جا سکے، تاکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد بحال ہو۔

Sources

Loading article...