پاکستان میں ٹیکس وصولی سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے اپنے مقررہ ہدف کو عبور کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق ادارے نے تیرہ ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس جمع کیا ہے، جو مالیاتی محاذ پر ایک نمایاں کارکردگی سمجھی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے بیان کے مطابق ایف بی آر کے لیے جو ہدف رکھا گیا تھا وہ بارہ اعشاریہ آٹھ تین ٹریلین روپے تھا۔ اس کے مقابلے میں حقیقی وصولی تیرہ ٹریلین روپے سے اوپر جا پہنچی، یعنی ادارہ نہ صرف ہدف تک پہنچا بلکہ اس سے آگے نکل گیا، جو محصولات کے شعبے کے لیے حوصلہ افزا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب کے بقول ملک میں ٹیکس وصولیاں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں۔ اس بیان کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ حالیہ عرصے میں محصولات کے حجم میں خاصا اضافہ ہوا ہے، اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور وصولیوں کو بہتر بنانے کی کوششوں کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے اس کارکردگی کو مالیاتی استحکام سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بہتر ریونیو کارکردگی کے نتیجے میں مالی خسارہ کم ہوا ہے۔ محصولات میں اضافہ عام طور پر حکومت کے لیے اخراجات پورے کرنے اور قرضوں پر انحصار کم کرنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے، اس لیے خسارے میں کمی کو ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیکس وصولی کے یہ اعداد و شمار مالی سال کے اختتام کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جب حکومتیں عموماً اپنی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیتی ہیں۔ ہدف سے زیادہ وصولی کو حکومت اپنی معاشی حکمت عملی کی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے، اگرچہ اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ آنے والے مہینوں میں مزید تفصیلات کے ساتھ ہی لگایا جا سکے گا۔
مجموعی طور پر ایف بی آر کی جانب سے ہدف عبور کرنا اور تیرہ ٹریلین روپے سے زائد وصولی حکومت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ محصولات میں یہ اضافہ کس حد تک عام شہریوں تک ریلیف کی صورت میں پہنچتا ہے اور آیا یہ رفتار آئندہ مالی سال میں بھی برقرار رہ پاتی ہے۔
