پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے صوبے کا بجٹ پیش کر دیا ہے جسے سرپلس بجٹ قرار دیا گیا ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً پانچ ہزار نو سو تین ارب روپے بتایا گیا ہے، جس میں صوبے کی آمدن اور اخراجات کا تخمینہ شامل ہے اور جو آئندہ مالی مدت کے لیے حکومتی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے۔
بجٹ کا ایک اہم پہلو سرکاری ملازمین سے متعلق تجاویز ہیں۔ تجویز کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں تین اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں کے لیے پانچ اعشاریہ دو فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ سو تین ارب اٹھاسی کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
صوبے کے وسائل میں وفاقی حصہ ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ بجٹ تخمینوں کے مطابق پنجاب کو وفاق سے قابلِ ادا محصولات کی مد میں چار ہزار تین سو اکانوے ارب روپے موصول ہوں گے، جو صوبائی مالی منصوبہ بندی کا ایک اہم ستون تصور کیا جاتا ہے۔
ترقیاتی شعبے کے لیے بھی خاطر خواہ رقم رکھی گئی ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام پر سات سو باون ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جو سڑکوں، عوامی سہولتوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور صوبے کی ترقیاتی سرگرمیوں کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
سماجی شعبوں میں تعلیم اور صحت کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ تعلیم کے لیے سات سو پچاس ارب اور صحت کے لیے پانچ سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان مختص رقوم سے تعلیمی اداروں اور طبی سہولتوں پر دی جانے والی حکومتی توجہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بجٹ دستاویز میں اخراجات کی مختلف مدوں کی تفصیل بھی شامل ہے۔ صوبائی مالیاتی کمیشن کے لیے آٹھ سو چوبیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ تنخواہوں پر چھ سو آٹھ ارب اور پینشن پر پانچ سو ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس کے ساتھ دیگر خدمات کی فراہمی کے لیے بھی سات سو ارب روپے سے زائد کی رقم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکسوں میں کئی رعایتیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی چھوٹ پچانوے فیصد سے بڑھا کر ننانوے فیصد کر دی گئی ہے، پنجاب کے لائسنس یافتہ موٹر وہیکل ڈیلرز اور وِد ہولڈنگ ایجنٹس کو پانچ فیصد رعایت دی جائے گی، جبکہ کارٹن فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب بجٹ میں آمدن بڑھانے کے لیے بعض ٹیکسوں میں اضافے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ زرعی انکم ٹیکس، آبیانہ اور ٹوکن ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ کمرشل لوڈر گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں تین گنا تک اضافے اور موجودہ سلیب سسٹم کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کا ڈھانچہ بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ایک ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایک ہزار سے دو ہزار سی سی تک کی گاڑی پر انوائس کی مالیت پر صفر اعشاریہ ایک فیصد عائد کرنے، اور دو ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر انوائس کی شرح صفر اعشاریہ تین سے بڑھا کر صفر اعشاریہ چار فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
