حکومتِ پنجاب نے صوبے میں ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ دنیا نیوز کے بلیٹن کے مطابق میرج ہاؤسز، مارکیز، فارم ہاؤسز اور بڑے فوڈ چینز کی مانیٹرنگ کے لیے کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں جعلی رسیدیں دینے اور سیلز چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مقصد ان کاروباروں کی نگرانی ہے جہاں آمدن اور فروخت کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔
بڑے ریسٹورنٹس میں کیش وصولی کے بجائے ڈیجیٹل پیمنٹ کو لازمی قرار دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ اگر دنیا کیش سے ڈیجیٹل ادائیگی کی طرف جا سکتی ہے تو پاکستان کیوں نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹیکس وصولی اور سیکٹرل میپنگ کی ہر ہفتے رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس سے وصولی کے عمل کی باقاعدہ نگرانی کی جا سکے گی۔
بلیٹن کے مطابق ٹیکس ریونیو کا ہدف 524 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ یہ ہدف صوبے میں محصولات کی وصولی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوام میں ٹیکس آگاہی بڑھانے کے لیے پنجاب ریونیو اتھارٹی کے میڈیا ونگ کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ اس کا مقصد شہریوں کو ٹیکس سے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے۔
اس طرح کیمروں کے ذریعے نگرانی، جعلی رسیدوں کے خلاف کارروائی، ڈیجیٹل ادائیگی اور 524 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو ہدف کے ساتھ حکومتِ پنجاب نے ٹیکس وصولی بڑھانے کی سمت میں اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
