LIVE PROTOCOL
EET--:--:-- edition--.--.--

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، 6 لاکھ آمدن پر زیرو ٹیکس، سرچارج ختم

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، 6 لاکھ آمدن پر زیرو ٹیکس، سرچارج ختم

وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے۔ سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن پر زیرو ٹیکس، تنخواہ دار طبقے پر سرچارج ختم اور مختلف سلیبز میں شرح کم کرنے کی تجویز ہے۔

وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ حکومت نے آمدن کی چار سلیبز میں تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور انہوں نے اسے ایک عوامی بجٹ قرار دیا۔

تجویز کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر صرف ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک آمدن پر 11 فیصد انکم ٹیکس مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ زیادہ آمدن والی سلیبز میں بھی شرح میں کمی کی گئی ہے، جس سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

سماجی تحفظ کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ یہ پروگرام ملک کے کم آمدنی والے طبقات کی مدد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

جائیداد کی خریداری پر فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کو 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے اور آئی ٹی برآمدات پر ٹیکس میں رعایت مزید تین سال جاری رکھنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

حکومت نے سالانہ ایک لاکھ سے زائد سستے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ تاہم بجٹ میں 264 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات بھی شامل ہیں، جن کی وجہ سے عوام کو مزید بوجھ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا، نعرے بازی ہوئی اور کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر ڈائس کے سامنے پھینکی گئیں۔ تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر کے بعد بجٹ ایوان میں پیش کیا گیا، جسے بعد ازاں سینیٹ میں بھی پیش کر دیا گیا۔

Sources

Loading article...