LIVE PROTOCOL
EET--:--:-- edition--.--.--

پنجاب حکومت آج 5,131 ارب روپے کا صوبائی بجٹ پیش کرے گی

پنجاب حکومت آج 5,131 ارب روپے کا صوبائی بجٹ پیش کرے گی

پنجاب حکومت آج تقریباً پانچ ہزار ایک سو اکتیس ارب روپے کا صوبائی بجٹ پیش کرے گی۔ محصولات کی مد میں 1,334 ارب روپے آمدن متوقع، صحت کے لیے 680 ارب اور تعلیم کے لیے 900 ارب سے زائد مختص، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز۔

پنجاب حکومت آج صوبے کا بجٹ پیش کرے گی جس کا مجموعی حجم تقریباً پانچ ہزار ایک سو اکتیس ارب روپے بتایا گیا ہے۔ یہ بجٹ صوبے کی مالی ترجیحات اور آئندہ مدت کے اخراجات کا خاکہ پیش کرے گا، اور اسے صوبائی سطح پر منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ بجٹ دستاویز میں آمدن اور اخراجات دونوں کے تخمینے شامل ہیں۔

بجٹ تجاویز کے مطابق محصولات کی مد میں تقریباً ایک ہزار تین سو چونتیس ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ یہ آمدن صوبے کے مالی وسائل کا ایک بنیادی حصہ تصور کی جا رہی ہے، جس کی بنیاد پر مختلف شعبوں کے لیے رقوم مختص کی جائیں گی اور اخراجات کا انتظام کیا جائے گا۔

صوبے کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ تقریباً تین ہزار پانچ سو اناسی ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ان اخراجات میں روزمرہ کے جاری اخراجات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اور دیگر مدوں پر خرچ ہونے والی رقوم بھی شامل ہیں، جو بجٹ کا ایک بڑا حصہ بنتی ہیں۔

صحت کے شعبے کے لیے بجٹ میں مجموعی طور پر تقریباً چھ سو اسی ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ رقم صوبے میں طبی سہولتوں، ہسپتالوں اور صحت سے متعلق خدمات کے لیے رکھی گئی ہے، جو حکومتی ترجیحات میں شامل دکھائی دیتی ہے۔

تعلیم کے شعبے کے لیے نو سو ارب روپے سے زائد کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ یہ صوبائی بجٹ کی بڑی مختص رقوم میں شامل ہے اور تعلیمی اداروں اور اس شعبے سے جڑے اخراجات کے لیے استعمال کی جائے گی، جس سے تعلیم پر دی جانے والی توجہ کا اندازہ ہوتا ہے۔

ترقیاتی اور سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے پانچ سو ستر ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ تجاویز کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سات فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو سرکاری ملازمین سے براہِ راست متعلق ہے۔

Loading article...