LIVE PROTOCOL
EET--:--:--edition--.--.--
avalw news
StatisticsApply as a creatorLogin
GL Global
Categories

کراچی رینجرز حملہ: پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کر کے سخت احتجاج

کراچی رینجرز حملہ: پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کر کے سخت احتجاج | AVALW News

کراچی میں رینجرز کیمپ پر دہشتگرد حملے کے بعد پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا اور احتجاجی مراسلہ تھمایا۔ حملے میں تین رینجرز اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے، تین دہشتگرد ہلاک اور ایک زخمی افغان شہری گرفتار ہوا جس نے اپنا نام عثمان علی بتایا اور جلال آباد سے آنے کا اعتراف کیا۔ افغانستان میں پاکستانی سفیر نے بھی افغان وزارت خارجہ کو احتجاجی مراسلہ دیا۔

کراچی میں رینجرز کے ایک کیمپ پر دہشتگردوں کے حملے کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی حصار کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم رینجرز نے بروقت اور برق رفتار کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے حملے کو پسپا کر دیا اور انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں نے کیمپ میں داخل ہونے کے لیے پہلے ایک دھماکہ کیا اور اسی کے ساتھ سکیورٹی حصار میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی۔ رینجرز اہلکار فوری طور پر متحرک ہوئے اور حملہ آوروں کا راستہ روکا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا اور علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جوابی کارروائی میں تین دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی افغان دہشتگرد کو گرفتار کر لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن مکمل کیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔

حملے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں رینجرز کے تین اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا، جبکہ شہدا کی قربانیوں کو سکیورٹی اداروں اور قیادت کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک پروکسی تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی، جسے سرکاری بیان میں خوارج قرار دیا گیا۔ یہ گروہ ماضی میں بھی سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بناتا رہا ہے اور حالیہ عرصے میں اس کی کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز نے دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشتگردی کے ہر فتنے کا پوری قوت سے خاتمہ کیا جائے گا۔

گرفتار ہونے والے زخمی دہشتگرد کے ابتدائی بیان میں کہا گیا کہ اس کا نام عثمان علی ہے اور وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا تھا، جہاں سے وہ حملے سے تقریباً سات روز قبل پاکستان پہنچا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس نے اپنا تعلق جماعت الاحرار سے بتایا، جبکہ ایک دوسرے حملہ آور نے کیمپ پر بم پھینکا تھا۔

حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے بعد پاکستان نے سفارتی سطح پر سخت ردِعمل دیا اور افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان ناظم الامور کو سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ایک احتجاجی مراسلہ بھی تھمایا گیا، جس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ افغان سرزمین اور افغان شہری پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

اسی نوعیت کا احتجاج کابل میں بھی ریکارڈ کرایا گیا، جہاں افغانستان میں پاکستان کے سفیر نے افغان وزارت خارجہ کو احتجاجی مراسلہ پیش کیا۔ دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب شہید رینجرز اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر سندھ کے ہمراہ رینجرز کیمپ کا دورہ کیا اور شہدا کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ حکام کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے اور کارروائیاں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

Loading article...