کراچی میں رینجرز کے ایک کیمپ پر دہشتگردوں کے حملے کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی حصار کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم رینجرز نے بروقت اور برق رفتار کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے حملے کو پسپا کر دیا اور انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں نے کیمپ میں داخل ہونے کے لیے پہلے ایک دھماکہ کیا اور اسی کے ساتھ سکیورٹی حصار میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی۔ رینجرز اہلکار فوری طور پر متحرک ہوئے اور حملہ آوروں کا راستہ روکا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا اور علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جوابی کارروائی میں تین دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی افغان دہشتگرد کو گرفتار کر لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن مکمل کیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
حملے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں رینجرز کے تین اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا، جبکہ شہدا کی قربانیوں کو سکیورٹی اداروں اور قیادت کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک پروکسی تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی، جسے سرکاری بیان میں خوارج قرار دیا گیا۔ یہ گروہ ماضی میں بھی سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بناتا رہا ہے اور حالیہ عرصے میں اس کی کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز نے دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشتگردی کے ہر فتنے کا پوری قوت سے خاتمہ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ شہدا کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ حکام کے مطابق دہشتگردی کے اس واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ذمہ داروں تک پہنچنے کے لیے کارروائیاں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
