کراچی میں تیز رفتار ہیوی گاڑیوں کے باعث ہونے والے جان لیوا حادثات کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ واقعے میں جہر موڑ کے قریب ایک تیز رفتار واٹر ٹینکر نے موٹرسائیکل سواروں کو روند ڈالا، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق اور دوسرا زخمی ہو گیا۔
حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی، جو تیز رفتار ڈرائیونگ اور ان گاڑیوں کے خلاف عوامی بے چینی کا اظہار تھا۔
کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں واٹر ٹینکرز اور دیگر ہیوی گاڑیوں کی تیز رفتاری شہریوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔ اکثر یہ گاڑیاں مصروف سڑکوں پر بے احتیاطی سے چلتی ہیں، جس کی قیمت عام شہریوں کو اپنی جانوں کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔
اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ رواں سال کے دوران شہر میں ہیوی گاڑیوں کے حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 153 تک پہنچ چکی ہے، جو سڑکوں پر جاری صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اس نوعیت کے واقعات کے بعد اکثر ٹینکرز کو نذر آتش کرنے اور احتجاج کے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں، تاہم مسئلے کا مستقل حل تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ شہری مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ان گاڑیوں کے لیے اوقات، رفتار اور روٹس کے حوالے سے سخت ضابطے نافذ کیے جائیں۔
فی الحال پولیس اور انتظامیہ نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ زخمی کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بار بار پیش آنے والے ان واقعات نے ایک بار پھر کراچی میں ہیوی ٹریفک کے انتظام اور شہریوں کی حفاظت کے سوال کو نمایاں کر دیا ہے۔
