خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ نے صوبے میں مطلوب دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 15 مطلوب دہشتگردوں کے سروں کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ان مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے عوامی تعاون حاصل کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو مزید موثر بنانا بتایا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے خاص طور پر دیر کے علاقے میں مطلوب دہشتگردوں کی ایک نئی فہرست جاری کی گئی ہے۔ اس فہرست میں شامل افراد کو مختلف کارروائیوں اور مقدمات میں مطلوب قرار دیا گیا ہے، اور ان کی نشاندہی پر مقرر کردہ انعامی رقوم کے اعلان کے ساتھ ان کی گرفتاری کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
نئی جاری کردہ فہرست کے مطابق سب سے زیادہ انعامی رقم خرشید نامی دہشتگرد پر رکھی گئی ہے، جس کے سر کی قیمت ایک کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ رقم فہرست میں شامل دیگر مطلوب افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، جو اس کی مبینہ سرگرمیوں کی سنگینی کی جانب اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق فہرست میں شامل دیگر مطلوب دہشتگردوں کے سروں کی قیمت بھی ان کے خلاف درج مقدمات اور مبینہ کارروائیوں کی نوعیت کے مطابق الگ الگ مقرر کی گئی ہے۔ ان انعامی رقوم کا مقصد عام شہریوں کو اطلاعات فراہم کرنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ مطلوب افراد قانون کی گرفت میں آ سکیں۔
صوبائی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مطلوب افراد کے بارے میں کوئی بھی معلومات متعلقہ اداروں کو فراہم کریں، اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اطلاع دینے والوں کے کوائف کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔ حکام کے مطابق عوامی تعاون انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کیے ہوئے ہیں۔ مطلوب افراد کے سروں کی قیمت مقرر کرنے اور نئی فہرست جاری کرنے کو صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کے خلاف جاری مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
