LIVE PROTOCOL
EET--:--:-- edition--.--.--

لاہور ٹیوشن سینٹر سانحہ: چودہ بچوں کی تدفین، تفتیش کے لیے حراست اور معاوضے کا اعلان

لاہور ٹیوشن سینٹر سانحہ: چودہ بچوں کی تدفین، تفتیش کے لیے حراست اور معاوضے کا اعلان

لاہور کے علاقے کانا میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے چودہ بچوں کی تدفین کر دی گئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کے لیے کئی افراد کو حراست میں لے لیا، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کو بیس بیس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کی ہدایت کی ہے۔

لاہور کے علاقے کانا میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے چودہ بچوں کی تدفین کر دی گئی ہے۔ نمازِ جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، لواحقین غم سے نڈھال دکھائی دیے اور پورے علاقے کی فضا سوگوار رہی۔ جاں بحق بچوں کی عمریں پانچ سے سولہ سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

حادثے میں ایک خاتون ٹیچر سمیت چند بچے زخمی بھی ہوئے۔ پولیس نے انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کی مدعیت میں حادثاتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق تفتیش کے لیے کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں، اور ملزمان کو ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق مکان کی چھت ٹی آئرن گارڈر اور ٹائلز پر مشتمل تھی اور اس پر تعمیراتی کام جاری تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ وزن پڑنے کے باعث چھت بیٹھ گئی۔ یہ ٹیوشن سینٹر ایک گھر میں قائم تھا جہاں عموماً تیس سے پینتیس بچے پڑھنے آتے تھے، تاہم حادثے کے روز بیس سے بائیس بچے موجود تھے۔

زخمی خاتون ٹیچر انیلا نے لاہور جنرل اسپتال سے دنیا نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ بارش سے چھت ٹپکتی تھی، اسی لیے مرمت کا کام شروع کیا گیا تھا، اور اسی حادثے میں اُن کی بیٹی بھی زخمی ہوئی جسے بعد میں اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اُن کے بقول گھر کے مالی حالات بہتر بنانے کے لیے وہ بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔

پولیس نے خاتون ٹیچر کے شوہر اور مرکزی ملزم ریحان کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ ملزم کے مطابق اُس کی اہلیہ گھر کا خرچ چلانے کے لیے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں، اور چونکہ بارش سے چھت ٹپکتی تھی اس لیے وہ اپنے بھائیوں اور مستری کے ساتھ مل کر چھت پر ٹائلز لگا رہا تھا۔ الزامات ابھی زیرِ تفتیش ہیں اور عدالت میں طے ہوں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر جاں بحق بچوں کے لواحقین کو بیس بیس لاکھ روپے اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگلے مرحلے میں شہر بھر کے ٹیوشن سینٹرز کا سروے کیا جائے گا، جس میں عمارتوں کی حالت، حفاظتی انتظامات اور رجسٹریشن کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ غیر محفوظ اور غیر رجسٹرڈ مراکز کی نشاندہی ہو سکے۔

Loading article...