صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک نواحی علاقے میں ایک ٹیوشن سینٹر کی عمارت اچانک گر جانے سے ایک بڑا سانحہ پیش آیا، جس میں کئی کم سن بچے جان کی بازی ہار گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ وہی عمارت تھی جہاں بچے روزانہ پڑھنے کے لیے آتے تھے، اور لمحوں میں ایک معمول کی شام ایک ناقابلِ تلافی نقصان میں بدل گئی۔
اطلاعات کے مطابق اس ٹیوشن سینٹر میں چار سال سے لے کر سترہ سال تک کی عمر کے بچے زیرِ تعلیم تھے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً چودہ بچے اس حادثے کی زد میں آئے، جن میں سے کئی چھوٹی عمر کے بچے جاں بحق ہوئے جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہیں۔ زخمی بچوں میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عمارت کے مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے، اور معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عمارت کس طرح اور کیوں گری، اور کیا اس کی تعمیر یا دیکھ بھال میں کوئی غفلت برتی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹیوشن سینٹر تقریباً ساڑھے تین سے چار برس سے اسی عمارت میں کام کر رہا تھا، تاہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اسے مطلوبہ منظوریوں، سرٹیفکیٹس اور حفاظتی معیارات کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ ناقدین کے مطابق اگر عمارت ضروری اجازت ناموں اور بلڈنگ سیفٹی کے تقاضوں کے ساتھ قائم ہوتی تو شاید یہ سانحہ ٹل سکتا تھا۔
اس واقعے نے پنجاب میں غیر محفوظ اور غیر منظور شدہ تعمیرات پر ایک بار پھر شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمارتوں کی ساختی حفاظت، اسکولوں اور تعلیمی مراکز کی نگرانی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا صوبائی اور مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اور جب تک غیر مجاز تعمیرات جاری رہیں گی، اس نوعیت کے سانحات کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
یہ المیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں عمارتوں اور دیواروں کے گرنے کے واقعات میں متعدد افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ بار بار پیش آنے والے ان حادثات نے تعمیراتی قوانین پر عملدرآمد اور احتساب کے فقدان کے سوال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ نقصان ناقابلِ بیان ہے، کیونکہ یہ وہی والدین ہیں جو محدود وسائل کے باوجود اپنے بچوں کی تعلیم کو ترجیح دے رہے تھے۔ ایک ایسی جگہ جہاں بچے بہتر مستقبل کی امید میں بھیجے جاتے تھے، وہاں پیش آنے والے اس سانحے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے، اور ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
