LIVE PROTOCOL
EET--:--:-- edition--.--.--

نابینا خاتون کو بینک مینیجر کے فراڈ میں ضبط شدہ ایک کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل گئے

نابینا خاتون کو بینک مینیجر کے فراڈ میں ضبط شدہ ایک کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل گئے

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست کی سماعت کے دوران ایک نابینا خاتون کو مالی فراڈ میں ضائع ہونے والے ایک کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل گئے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ سزا یافتہ بینک مینیجر رمیز جاوید کی دونوں گاڑیاں ریکور کر کے تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائے، جبکہ متاثرہ خاتون درخشاں مرزا نے دونوں ججز کا شکریہ ادا کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک اہم سماعت کے دوران ایک نابینا خاتون کو مالی فراڈ کے نتیجے میں ضائع ہونے والے ایک کروڑ 92 لاکھ روپے واپس مل گئے۔ یہ رقم ایک بینک مینیجر کے فراڈ کے باعث خاتون سے ہتھیائی گئی تھی، اور اس کی واپسی کو متاثرہ خاتون کے لیے بڑی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ ایک متفرق درخواست کی صورت میں عدالت میں زیرِ سماعت آیا، جس میں خاتون نے اپنی رقم کی بازیابی کے لیے انصاف کی درخواست کی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے معاملے کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی۔

درخواست دائر کرنے والی خاتون درخشاں مرزا خود عدالت میں پیش ہوئیں۔ رقم واپس ملنے پر انہوں نے کیس کی سماعت کرنے والے دونوں ججز کا شکریہ ادا کیا اور عدالتی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اس مقدمے کا مرکزی کردار بینک مینیجر رمیز جاوید ہے، جو کروڑوں روپے کے فراڈ کیس میں پہلے ہی سزا یافتہ ہے اور اس وقت اڑیالہ جیل میں قید ہے۔ اس کیس نے بینکاری نظام میں اعتماد اور نگرانی سے متعلق سوالات کو بھی نمایاں کیا ہے۔

عدالت نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ رمیز جاوید کی دونوں گاڑیاں ریکور کی جائیں اور اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ اس اقدام کا مقصد فراڈ سے حاصل کیے گئے اثاثوں کی بازیابی اور متاثرین کے حقوق کا تحفظ بتایا جا رہا ہے۔

کسی بھی شہری کے لیے زندگی بھر کی جمع پونجی کا اس طرح ضائع ہو جانا ایک بڑا صدمہ ہوتا ہے، اور ایک نابینا خاتون کے معاملے میں یہ مشکل مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے رقم کی واپسی اور عدالتی احکامات کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ کیس اس امر کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ مالی فراڈ کے مقدمات میں نہ صرف ملزم کو سزا دینا ضروری ہے بلکہ متاثرین کی رقم اور اثاثوں کی بازیابی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ عدالت کی جانب سے گاڑیوں کی ریکوری اور رپورٹ طلبی کو اسی سمت میں ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Loading article...