پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 28 اور 29 جون کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف بڑی فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد سرحد کے قریب موجود ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا جنہیں دہشت گرد پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ان کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق یہ تنظیمیں سرحد پار سے پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں، اور انہی کے مراکز کو ہدف بنا کر تباہ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ پکتیا اور کنڑ کے علاقوں میں کی جانے والی فضائی کارروائی میں 25 دہشت گرد مارے گئے اور ان کے مراکز تباہ کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ باجوڑ میں ہونے والی کارروائی میں مزید چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ تمام ہلاکتیں پاکستانی فوج کے دعوے کے مطابق بتائی گئی ہیں۔
باجوڑ میں ہونے والے آپریشن میں ایک ہائی ویلیو کمانڈر خان فروش کو بھی ہلاک کیا گیا، جبکہ ایک اور کمانڈر بھی اس کارروائی میں مارا گیا۔ سرکاری بیان میں ان کارروائیوں کو منظم اور درست نشاندہی کا نتیجہ قرار دیا گیا، جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کو ختم کرنا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، اور سکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فوجی حکام نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، تاہم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں آپریشن کا سلسلہ تسلسل سے جاری رہے گا۔
