راولپنڈی میں قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کے واقعے نے پولیس انتظامیہ میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے بعد محکمے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور قیدیوں کی منتقلی کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ فرار ہونے والے حوالاتیوں کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق فرار ہونے والے چار مفرور حوالاتیوں کو دوبارہ گرفتار کر کے تھانہ کہوٹہ منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر چھتیس میں سے بائیس حوالاتیوں کو واپس اڈیالا جیل پہنچا دیا گیا ہے۔ باقی مفرور حوالاتیوں کی گرفتاری کے لیے تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مختلف مقامات پر تلاش میں مصروف ہیں۔
واقعے کی ابتدائی کارروائی کے دوران قیدی وین کے انچارج سب انسپکٹر امتیاز کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان سے واقعے کے تمام پہلوؤں اور حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کوتاہی سے متعلق تفصیلی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
اسی سلسلے میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات راولپنڈی پولیس کے پانچ افسران اور اہلکاروں کو بھی زیر حراست لے لیا گیا ہے۔ ان تمام اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے کہ آیا قیدیوں کی منتقلی کے دوران مقررہ ضوابط پر عمل کیا گیا تھا یا حفاظتی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اعلیٰ حکام کی جانب سے کیے گئے فوری فیصلوں کے تحت ایڈیشنل ایس پی ہیڈکوارٹر راولپنڈی منصور اقبال کو سنٹرل آفس رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ اقدام واقعے میں مبینہ انتظامی کوتاہیوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، جس کے بعد متعلقہ افسر کو معمول کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر راولپنڈی امتیاز احمد کو واقعے کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق خطرناک حوالاتیوں کی عدالت پیشی اور منتقلی کے حوالے سے رائج ضوابط اور حفاظتی طریقہ کار کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
